محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

غالب کا پیش کردہ کلام

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے دل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاں لیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے دعویٰ جو برشگال کو آنکھوں سے ہے مری ایسا کوئی جو ابر گہربار بھیج دے دیتے ہیں عقد حسن میں عاشق عروس جاں آتا نہیں جو آپ تو تلوار بھیج دے سوداؔ سے غم گسار کا تھا دل یہ تیں لیا اس کے عوض بھلا کوئی غم خوار بھیج دے

— محمد رفیع سودا